بدھ، 29 اگست، 2018

وزیراعظم عمران خان کو خاورمانیکا اورڈی پی او رضوان گوندل کے درمیان تنازع کے حوالے سے پنجاب حکومت کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کی بنیاد پرانہوں نے معاملے پر لاتعلق رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو خاورمانیکا سے تنازع سے متعلق پنجاب حکومت کی جانب سے ابتدائی رپورٹ غیررسمی طور پر موصول ہوگئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او نے خود کو ہیروثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا تاہم وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے ڈی پی او کو ہٹانے کے لیے دباوٴ نہیں ڈالا اور آئی جی پولیس نے غلط بیانی پرڈی پی او کو خود عہدے سے ہٹایا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ ملنے کے بعد واقعہ کو محکمانہ معاملہ قراردیتے ہوئے معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ یہ معاملہ پنجاب حکومت خود دیکھے گی۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ڈی پی اوپاکپتن کے تبادلے سے تحریک انصاف یا پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں ان کا تبادلہ شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو گارڈز سمیت روکنا پاکپتن پولیس کے سربراہ کو مہنگا پڑگیا تھا آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا تھا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں