بدھ، 29 اگست، 2018

سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری، اہلیہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ کے اثاثوں اور اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے گزشتہ روز جمع کرائے گئے آصف زرداری کے بیان حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے باہر ان کی کوئی جائیداد نہیں۔

سپریم کورٹ نے آصف زرداری سے گزشتہ دس سال کے اثاثوں، بچوں اور بے نظیر بھٹو کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے تمام تفصیلات بیان حلفی کے ساتھ دو ہفتوں میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا بتایا جائے کہ 2007ء میں آصف زرداری کے کتنے اثاثے تھے، براہ راست اور بلواسطہ ملکیتی اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں، آصف زرداری اگر کسی اثاثے کے ٹرسٹی ہیں تو اس کا بھی بتائیں۔
جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا کہ آصف زرداری کے بیان حلفی سے سوالات پیدا ہوئے ہیں، انہوں نے بیان حلفی میں موقف اپنایا ہے کہ آج کے دن تک ان کے کوئی غیر ملکی اثاثے نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے وکیل فاروق نائیک کو کہا کہ آصف زرداری سے پوچھ کر یہ بھی بتائیں کہ کیا ان کا کوئی سوئس اکاؤنٹ بھی ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کیا پرویز مشرف صرف اپنی تنخواہ سے دبئی میں فلیٹ خرید سکتے تھے۔ عدالت نے پرویز مشرف سے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ سابق آرمی چیف دس دن میں اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی دیں۔
پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ مشرف کے پاس دبئی میں فلیٹ ہے، ایک اکاؤنٹ میں 92 ہزار درہم ہیں، جبکہ جیپ اور مرسڈیز سمیت تین گاڑیاں بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے مشرف کو سعودی عرب سے تخائف ملے ہیں، کیا مشرف اپنی ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ خرید سکتے تھے، ان سے کہیں عدالت آ کر خود وضاحت دیں۔

وکیل نے کہا کہ مشرف کے غیر ملکی اثاثے صدارت چھوڑنے کے بعد کے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا لیکچر دینے سے اتنے پیسے ملتے ہیں، کیوں نہ میں بھی ریٹارمنٹ کے بعد لیکچر دوں، چک شہزاد فارم ہاؤس کس کا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ چک شہزاد فارم ہاؤس بھی پرویز مشرف کا ہے۔
چیف جسٹس نے آصف زرداری کا بیان حلفی لیک ہونے پر اپنے عملے کو طلب کر لیا۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے مگر کچھ ثابت نہیں ہوا اور تمام مقدمات میں باعزت بری ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال صرف الزامات کا جواب لے رہے ہیں، اگر کوئی الزام غلط ہوا تو آصف زرداری کلئیر ہو جائیں گے، ہم سیاسی رہنماؤں کے سر سے تہمتیں ختم کرنا چاہتے ہیں، عوام کو اپنے لیڈروں پر بد اعتمادی نہیں ہونی چاہیے۔

گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کیخلاف ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور شرکا نے ہالینڈ کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔

بلوچستان کے شہر حب کے علاقے وندر میں ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف شہریوں نے ریلی نکالی اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے، جو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور مقابلے کو رکوائے، ورنہ حالات خراب ہوسکتے ہیں۔
پشاور میں ضلع کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ ضلع کونسل اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
بہاولنگر میں آل ڈیپارٹمنٹ اور ایپکا یونین کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔  لاہور میں بھی جامعہ نعیمیہ کے طلبا نے لاہور پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کی۔ فیروزوالہ میں شاہدرہ چوک پر تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان نے ہالینڈ میں نبی کریم ﷺ کے خلاف شائع ہونے والے خاکوں کے خلاف احتجاج کیا۔
ادھر مذہبی جماعتوں کی جانب سے لاہور میں داتا دربار سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا جارہا ہے۔  منتظمین کے مطابق لانگ مارچ میں شرکا جزبہ ایمانی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے تحت شرکت کر رہے ہیں کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کریں گے ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں، یہ مقابلے کروانے والے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے متنازع رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا قبیح اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے 20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا تھا

تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے اپنی جماعت پر کراچی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگادیا۔

گورنر ہاؤس میں ہونے والے عشائیے میں نہ بلانے پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین پی ٹی آئی کراچی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے واٹس ایپ گروپ سے باہر نکل گئے۔ واٹس ایپ گروپ چھوڑنے سے پہلے عامر لیاقت نے کہا کہ شور مچاتا ہوں تو ٹکٹ ملتا ہے، شور کرتا ہوں تو موبائل نمبر بھی ملتا ہے، مجھے ہر اجلاس میں نظر انداز کیا جارہا۔
عامر لیاقت نے سیکریٹری اطلاعات شہزاد قریشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے لئے اب بھی بہتری لے آئیں، بار بار اتنی سیٹیں نہیں ملیں گی، اپنی عزت اپنے ہاتھوں سے خراب نہ کریں، اگر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ زیادتی کرنی ہے تو پھر مسائل پیدا ہوں گے، گورنر صاحب نے تقریبِ حلف برداری میں تو بلایا لیکن عشائیے میں کیوں نہیں بلایا۔ پی ٹی آئی ایم پی ایز اور ایم این ایز نے معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھجوانے پر زور دیا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہارالحسن کے بھائی چائنا کٹنگ میں ملوث نکلے

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کے بھائی پر چائنا کٹنگ کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
کراچی میں ایم کیو ایم رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کے بھائی ابصار الحسن زمینوں پر قبضوں میں ملوث نکلے۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے چائنا کٹنگ کرانے پر سرجانی ٹاؤن تھانے میں خواجہ اظہار کے بھائی کے خلاف ایف آئی آر درج کروادی۔ 
مقدمے کے مطابق ابصار الحسن نے متعدد سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا اور چائنا کٹنگ کرکے اراضی فروخت کردی۔ کے ڈی اے کے مطابق ابصار الحسن سرجانی ٹاؤن میں چائنا کٹنگ کے تمام معاملات چلارہے ہیں، چائنا کٹنگ کرنے والا خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو اس کے خلاف ایکشن ہوگا۔ کیس میں ابصار الحسن کے علاوہ ایک اور ملزم حبیب انصاری عرف ڈاکٹر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

F

اعت کے دوران عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے اثاثوں سے متعلق جمع کرائے گئے بیان حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان کے 2007 کے بعد سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے کچھ ثابت نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے فاروق نائیک سوال کیا کہ کیا آصف زرداری کاسوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹ تھا؟ کیا بے نظیر شہید یا بچوں کے نام پر اکاؤنٹ تھا؟
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آصف زرداری بیان حلفی میں بتائیں انہوں نےکوئی ٹرسٹ بنایا ہے یا نہیں، وہ باہر جاتے ہیں وہاں ان کی دیکھ بھال ان کے دوست کرتےہوں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تفصیلی بیان حلفی 15 دن میں داخل کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نےاثاثوں سے متعلق آصف زرداری کے بیان حلفی پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے اثاثوں سے متعلق جمع کرائے گئے بیان حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان کے 2007 کے بعد سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے کچھ ثابت نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے فاروق نائیک سوال کیا کہ کیا آصف زرداری کاسوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹ تھا؟ کیا بے نظیر شہید یا بچوں کے نام پر اکاؤنٹ تھا؟
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آصف زرداری بیان حلفی میں بتائیں انہوں نےکوئی ٹرسٹ بنایا ہے یا نہیں، وہ باہر جاتے ہیں وہاں ان کی دیکھ بھال ان کے دوست کرتےہوں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تفصیلی بیان حلفی 15 دن میں داخل کیے جائیں۔

وزیراعظم عمران خان کو خاورمانیکا اورڈی پی او رضوان گوندل کے درمیان تنازع کے حوالے سے پنجاب حکومت کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کی بنیاد پرانہوں نے معاملے پر لاتعلق رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو خاورمانیکا سے تنازع سے متعلق پنجاب حکومت کی جانب سے ابتدائی رپورٹ غیررسمی طور پر موصول ہوگئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او نے خود کو ہیروثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا تاہم وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے ڈی پی او کو ہٹانے کے لیے دباوٴ نہیں ڈالا اور آئی جی پولیس نے غلط بیانی پرڈی پی او کو خود عہدے سے ہٹایا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ ملنے کے بعد واقعہ کو محکمانہ معاملہ قراردیتے ہوئے معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ یہ معاملہ پنجاب حکومت خود دیکھے گی۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ڈی پی اوپاکپتن کے تبادلے سے تحریک انصاف یا پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں ان کا تبادلہ شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو گارڈز سمیت روکنا پاکپتن پولیس کے سربراہ کو مہنگا پڑگیا تھا آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا تھا۔


وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کے وزیرخارجہ سے رابطہ کرکے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔


شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈچ پارلیمان کی جانب سے ایسےاقدامات سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح  ہوں گے جب کہ نفرت اور عدم برداشت کوتقویت ملے گی
گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں پر پاکستان پہلے ہی ملک میں متعین ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کرکے سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کراچکا ہے  جب کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک انفرادی فعل ہے، گستاخانہ مواد سے ہماری حکومت کا تعلق نہیں تاہم کل سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف وزیراعظم تشریف لائے اور اس حوالے سے متفقہ قرارداد بھی پاس کی گئی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قرارداد منظور ہونے کے بعد او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا جب کہ نیویارک میں کونسل آف فارن منسٹرزکے فورم پربھی معاملہ اُٹھاؤں گا۔
وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایوان میں حکومتی مؤقف سامنے رکھا جب کہ اقلیتی ارکان نے بھی گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہمارے ساتھ آواز اٹھائی اور ہمارے مؤقف کی حمایت کی کیوں کہ گستاخانہ مواد کے حوالے سے ہم سب کا موقف ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے اس مسئلے پر یک زباں ہو کرہی صحیح طریقے سے مؤقف اپنایا جاسکتا ہے، میں تمام علما و مشائخ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے جذبات سے آگاہ ہیں۔
  

حنیف گل نے بھی ’’یو ٹو شٹ اپ‘‘ کہہ دیا

شتہ دنوں جب حکومت تبدیل ہوئی اور شیخ صاحب کی واحد قابلیت یعنی پگڑی اچھالنے اور بدزبانی کے عوض اُنہیں ریلوے کی وزارت دی گئی تو اُنہوں نے بریفنگ کےلیے ریلوے کے افسران کی میٹنگ کال کرلی۔ اِس میٹنگ میں سب ہی بالا افسران شریک تھے۔ یہ ہماری قومی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ پورے معاشرے کی چھنی ہوئی عمدہ کریم، جسے ہم ’’سول سرونٹس‘‘ کہتے ہیں، ایک ایسے وزیر کے سامنے ’’یس سر‘‘ کہنے پر مجبور ہے جس کی قابلیت ’’تھڑے کی سیاست‘‘ ہے۔
شیخ صاحب جب میٹنگ میں پہنچے تو اُنہیں ایک دو بریفنگز میں ہی اندازہ ہو چکا تھا کہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اُن کےلیے مشکلات کھڑی کرگیا ہے۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اُس نے بلور کے دور میں ڈوبتی ہوئی ریلوے کو دوبارہ سے پٹڑی پر دوڑانا شروع کر دیا ہے۔ ریلوے کا ریونیو 50 ارب روپے سالانہ کی حد کو عبور کرچکا ہے۔ بند شدہ کارگو ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ریلوے کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے، ای ٹکٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور اِس کے علاوہ ایسے بے شمار کام ہیں جن کا کریڈٹ خواجہ سعد رفیق کے سر جاتا ہے۔ لیکن کریڈٹ دینے کےلیے بڑا دل اور اعلیٰ ظرف کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ہماری ملک کی بیشتر سیاسی کلاس ویسے ہی مبراء ہے۔ شیخ صاحب کےلیے اب مسئلہ یہی تھا کہ اگر اُنہیں موجودہ ریلوے سے نام کمانا ہے تو پھر اپنے پیشرو سے بہتر اور زیادہ کام کرنا ہوگا؛ 
اور ہم سب جانتے ہیں کہ شیخ صاحب کی قابلیت تھڑے کی زبان، بدتمیزی اور تھکی ہوئی جگت بازی ہے۔

میٹنگ میں جب سینئر افسر اشفاق خٹک نے اپنی بریفنگ کا آغاز کیا تو اُنہوں نے ماضی کا ریکارڈ بھی بیان کیا کہ کیسے برباد ریلوے اب آباد ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ انا پرست شیخ رشید کو یہ حقیقت ہضم نہیں ہوئی۔ اُس نے انتہائی بدتمیزی سے سگار کا کش لیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگ مجھے رضیہ بٹ کے ناول سنا رہے ہیں۔ کام کی بات بتائیں۔ میٹنگ میں شامل تمام ہی افسران کےلیے یہ رویہ افسوسناک تھا۔ شیخ صاحب نے صرف اِس پر ہی بس نہیں کی بلکہ سابق وزیر اور اُن کے خاندان کے قصیدے پنجابی میں میٹنگ کے شرکاء کو سناتے چلے گئے۔ اشفاق خٹک چپ چاپ کھڑے سنتے رہے۔ اشفاق خٹک ایماندار اور نیک نام افسر ہیں۔ گزشتہ دن بھی شیخ رشید نے یہی کچھ کیا تھا اور آج بھی وہی ہو رہا تھا؛ بلکہ اب تو سب سے سینئر افسران کی تذلیل بھی شروع ہوچکی تھی۔
  اس موقعے پر چیف کمرشل مینیجر حنیف گل نے مسٹر منسٹر کی توجہ اُن کے لہجے پر کروائی تو شیخ صاحب نے توپوں کا رُخ اُن ہی کی جانب موڑتے ہوئے ’’شٹ اپ‘‘ کہہ دیا۔ جواب میں حنیف گل نے بھی ’’یو ٹو شٹ اپ‘‘ کہہ دیا۔ ظاہر ہے کہ آپ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں، کسی تھڑے باز سیاستدان کے ملازم تو نہیں۔
میرے ذرائع بتاتے ہیں کہ شیخ رشید نے اِس کے بعد غصے میں کہا کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ جس کے جواب میں حنیف گل نے بھی کہا کہ دیکھ لیجیے گا۔ شیخ صاحب کسی بھی سول سرونٹ کا کچھ بھی نہیں کرسکیں گے کیونکہ یہ اِن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
جس افسر نے شیخ رشید جیسے زمینی خدا کو شٹ اپ کال دی، وہ حنیف گل پاکستان ریلویز کے مایہ ناز افسر ہیں۔ یہ اُن معدودے چند افسران میں سے ایک ہیں جن کی ایمانداری اور کمٹمنٹ کی گواہی اُن کے مخالفین، سینئرز اور جونئیرز، سب ہی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے کوئٹہ اور پھر پشاور کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کرچکے ہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ یہ دونوں ڈویژن کس حد تک مشکل ہیں۔ ریلوے سے متعلق تمام اخبار نویس جانتے ہیں کہ حنیف گل امریکا اور برطانیہ سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ملک سے محبت کے جنون میں مبتلا ہیں؛ اور بہترین مواقع نظرانداز کرکے پاکستان ریلوے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
حنیف گل عمران خان کے ساتھ اُس وقت سے کھڑے ہیں جب شاید عمران خان بھی اپنے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ پاکستان کالج آف لاء میں انہوں نے اُس وقت عمران خان کو دعوت خطاب دی جب خاں صاحب کے اپنے محلے کے لوگ بھی اُن کو سنجیدہ نہیں لیتے تھے۔ حنیف گل تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے پر خوش تھے، وہ افسروں اور دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال میں سو دن کے پروگرام اور تحریک انصاف کے منشور کو قابل عمل قرار دے کر سراہتے تھے۔
حنیف گل صرف بیوروکریٹ نہیں بلکہ ایک انتہائی قابل وکیل بھی ہیں جو شاید وکالت کا پیشہ چنتا تو آج ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہوتا؛ جبکہ آج اِس کی حالت دیکھنے کےلیے میو گارڈنز کے بالکل کونے میں ایک گھر دیکھ لیجیے۔ حنیف گل کا ایک کریڈٹ اور بھی ہے کہ اُس نے بہت سے قابل اور ذہین لوگوں کو سی ایس ایس کی ایسی تیاری کروائی کہ وہ اُسے بہ آسانی کلیئر کرگئے۔ پاکستان کالج آف لاء کا تربیت یافتہ یہ بیوروکریٹ شاید ہر دور میں ایسا ہی تھا۔ اگر کوئی بات غلط ہے تو پہلے تمیز سے سمجھائے گا اور اُس کے بعد اُس زبان میں سمجھائے گا جس زبان میں مخاطب کو سمجھ آئے… اور یہی بات شیخ رشید کے ساتھ ہوئی تھی۔
میٹنگ کے بعد حنیف گل نے انتہائی دکھی دل سے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس وزیر کے ساتھ کام نہیں کرسکتا لہذا مجھے لمبی چھٹی لے کر چلے جانا چاہیے۔ اُنہوں نےسیکرٹری/ چیئرمین ریلوے کے نام درخواست میں واضح طور پر لکھا کہ موجودہ وزیر ریلوے کام کے آداب سے نابلد ہیں اور اُن کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ (نان پروفیشنل) ہے۔ سول سروس آف پاکستان کا معزز رُکن ہونے کی حیثیت سے میرے لیے اِن کے ماتحت کام کرنا ممکن نہیں جبکہ وزیر صاحب کو پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنی مرضی کی ٹیم رکھیں جو اُن کا وژن آگے بڑھاسکے۔ لہذا مجھے 730 دن یعنی دو سال کی رخصت دی جائے۔ یہ درخواست انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔

ریلوے اسپتال کی لیڈی ڈاکٹرافسران کی جانب سے ہراسانی پر میدان میں آگئیں

لاہور: 
ریلوے کیرن اسپتال میں تعینات خاتون میڈیکل آفیسرنے اعلی افسروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے والوں کے خلاف کارروائی کےلئے وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید کو تحریری درخواست کردی ہے۔

ریلوے کیرن اسپتال کی میڈیکل آفیسرڈاکٹر صائمہ ممتاز نے درخواست میں لکھا ہے کہ ڈی ایم اومغلپورہ میں تعینات ڈاکٹرعامرمسعود چوہدری جوکہ ایک کرپٹ شخص ہے اس نے سینٹری انسپکٹرکے ذریعے ان سے دوستی اوررشوت خوری میں مدد کی پیش کش کی جسے میں نے مسترد کردیا اور اس بارے میں اعلی حکام کوآگاہ کیا مگر ڈاکٹر عامر اور سینٹری انسپکٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکی بلکہ ڈی ایس ریلوے ورکشاپ نے میرے خلاف اقدام اٹھانا شروع کردیئے۔

منگل، 28 اگست، 2018

خواتین جو ڈپریشن ہوتے ہیں وہ زیادہ خطرے میں

ڈپریشن کی علامات زیادہ دیر تک اور زیادہ شدید ہیں. آپ کو نا امید اور بیکار محسوس بھی ہوسکتا ہے، اورآپ بچے میں دلچسپی کھو دےتےا ہے. آپ اپنے آپ کو یا بچے کو چوٹ پہنچانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں. بہت ہی کم از کم، نئی ماؤں کو بھی زیادہ سنجیدگی پیدا ہوتی ہے. ان کے ساتھ ہوسکتی ہے یا اپنے آپ کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے. انہیں ہسپتال میں اکثر 
علاج کرنے کی ضرورت ہے
بچے کی پیدائش کے بعد پہلے سال میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے. وجہ معلوم نہیں ہے. پیدائش کے بعد ہارمونل اور جسمانی تبدیلیوں اور نئے بچے کی دیکھ بھال کے کشیدگی کا کردار ادا کر سکتا ہے. خواتین جو ڈپریشن ہوتے ہیں وہ زیادہ خطرے میں 

حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تقرری کا معاملہ جعلی دستخطوں کے باعث الجھ گیا

حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تقرری کا معاملہ جعلی دستخطوں کے باعث الجھ گیا ۔
جعلی دستخطوں کے معاملے پر نوید اسلم اور محمد ارشد نے خط اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کردیا ہے جس میں دستخطوں کی درستی کےلئے کہا گیا ہے جبکہ خاتون ایم پی اے راحت افزا نے اپنے دستخط دوبارہ کردئیے ہیں۔
معاملہ سامنے آنے پر ن لیگ کے خواجہ عمران نذیر اور میاں مرغوب اسمبلی پہنچ گئے اور ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ عمران نذیر نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی نے حمزہ شہباز کے کاغذات اپوزیشن لیڈر کے طور پر جمع کرائے تھےلیکن ان کے ارکان اسمبلی کے دستخطوں پر سوال اٹھا دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کو ہر حال میں اپوزیشن لیڈر بنانا پڑے گا ۔

ڈپریشن کی علامات زیادہ دیر تک اور زیادہ شدید ہیں. آپ کو نا امید اور بیکار محسوس بھی ہوسکتا ہے

 ڈپریشن کی علامات زیادہ دیر تک اور زیادہ شدید ہیں. آپ کو نا امید اور بیکار محسوس بھی ہوسکتا ہے، اورآپ بچے میں دلچسپی کھو دےتےا ہے. آپ اپنے آپ کو یا بچے کو چوٹ پہنچانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں. بہت ہی کم از کم، نئی ماؤں کو بھی زیادہ سنجیدگی پیدا ہوتی ہے. ان کے ساتھ ہوسکتی ہے یا اپنے آپ کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے. انہیں ہسپتال میں اکثر 
علاج کرنے کی ضرورت ہے
بچے کی پیدائش کے بعد پہلے سال میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے. وجہ معلوم نہیں ہے. پیدائش کے بعد ہارمونل اور جسمانی تبدیلیوں اور نئے بچے کی دیکھ بھال کے کشیدگی کا کردار ادا کر سکتا ہے. خواتین جو ڈپریشن ہوتے ہیں وہ زیادہ خطرے میں ہیں.
اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ کو نرسوں کی ڈپریشن ہے، تو اپنے صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے کو بتائیں. ادویات، بشمول antidepressants اور بات کی تھراپی آپ کی مدد کر سکتے ہیں.
زہریلا ڈپریشن (پی پی ڈی) ایک ڈپریشن ہے جس میں کچھ بچے کو ایک بچے کو جنم دینے کے بعد پر اثر انداز ہوتا ہے.
علامات میں اداس، نیند اور کھانے کے پیٹرن میں تبدیلی، کم توانائی، تشویش، اور جلدی شامل ہی

عام طور پر، پیدائش دینے کے بعد حالت 4 سے 6 ہفتوں تک جاری رہتی ہے، لیکن یہ کبھی کبھار کئی ماہ لگنے کے لۓ لے سکتے ہیں

یہ معلوم نہیں ہے کہ پی پی ڈی کیوں ہوتا ہے. تاہم، ڈپریشن ایک نشانی نہیں ہے کہ آپ اپنی نئی آمد سے محبت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ بعض ماؤں سے ڈرتے ہیں. یہ ایک نفسیاتی خرابی ہے جو معاون گروپوں، مشاورت، اور بعض اوقات دوا کی مدد سے مؤثر طور پر علاج کیا جا سکتا ہے. علامات کے ساتھ کوئی بھی اپنے ڈاکٹر کو فوری طور پر دیکھنا چاہئے

اس قسم کی ڈپریشن صرف ماؤں پر اثر انداز نہیں کرتی ہے. ایک مطالعہ پایا گیا ہے کہ تقریبا 10 فیصد نئے باپ دادا کو نطفہ یا ابتدائی ڈپریشن کا تجربہ ہوتا ہے. بچے کی پیدائش کے بعد 3 سے 6 ماہ کی سب سے زیادہ شرح مل سکتی ہے.

زہریلا ڈپریشن کئی مختلف طریقوں سے والدین کو متاثر کرسکتا ہے. ذیل میں کچھ اور علامات ہیں:

پریشان کن اور پھنسنے کا احساس، یا نمٹنے کے لئے یہ ناممکن ہے
برا موڈ جو ایک ہفتے سے زائد عرصہ تک رہتا ہے
ردعمل کا احساس
بہت رو رہا ہے
مجرم محسوس
اکثر جلدی جلدی
سر درد، پیٹ میں درد، دھندلا ہوا نقطہ نظر
بھوک کی کمی
آزادی کا نقصان
گھبراہٹ کے حملوں
مسلسل تھکاوٹ
حراستی کے مسائل
حوصلہ افزائی میں کمی
سونے کی دشواری
والدین خود میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں
ناکافی کا احساس
نئے بچے میں دلچسپی کا ایک غیر معمولی کمی ہے
ملنے یا دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی خواہش کی کمی
پی پی ڈی بچے بلیوز کے طور پر ہی نہیں ہے، جس سے پیدائش دینے کے چند دنوں بعد بہت سے نئے والدین کو متاثر ہوتا ہے. تاہم، اگر روزانہ معمول کا دوبارہ تعین کرنے کی صلاحیت کم موڈ کی وجہ سے نمایاں طور پر کمزور ہے، تو یہ طویل مدتی ڈپریشن کی علامت ہے.

پی پی ڈی کے ساتھ بہت سے لوگوں کو لوگوں کو یہ بتانا نہیں کہ وہ کیسے محسوس کرتے ہیں. شراکت دار، خاندان، اور دوستوں جو ابتدائی مرحلے میں زہریلا ڈپریشن کے علامات پر لینے کے قابل ہو وہ انہیں جلد ہی ممکنہ طور پر طبی مدد حاصل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں.

بعض لوگ جو زہریلا ڈپریشن کے ساتھ اپنے بچے کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچتے ہیں. وہ خودکش یا خود کو نقصان دہ کرنے کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں. زیادہ تر مقدمات میں والدین اور نہ ہی بچے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، لیکن ان خیالات کو خوف زدہ اور تکلیف دہ ہوسکتی ہے.

z

ڈپٹی کمشنر خانیوال کا کہنا ہے کہ بچی کی وفات کے معاملے کا وزیراعلیٰ کے دورے سے کوئی تعلق نہیں، اگرکسی ڈاکٹر کی غفلت پائی گئی توسخت ایکشن لیا جائے گا۔
اسپتال کے ڈاکٹرعامرکا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سالہ کومل بی بی تھیلیسمیا کی شکار تھی، فالواپ کےلئےاسپتال آئی تھی۔